10 جون 2012 - 19:30

امريکي اخبار’ بوسٹن گلوب‘ کے مطابق جنگوں کے خاتمے پر خوشي کے لمحات تاريخ ميں اتنے شايد پہلے کبھي نہيں ديکھے گئے ،جتنے امريکي فوجيوں کے چہرے پراب نظر آ رہے ہيں.

ابنا: عراق اور افغان جنگوں کو سميٹنے کے عمل کي باتيں جيسے زور پکڑ رہي ہيں ،اسي طرح امريکي فوجيوں کے چہرے کھلتے جا رہے ہيں. امريکي فوجيوں کے لئے خارجي دشمن ان کي اتني ہلاکت کا سبب نہيں بنا جتنا خودکشي وجہ بنا .اخبار لکھتا ہے کہ حاضرسروس فوجيوں کي خودکشي کے واقعات افغان جنگ ميں مخالفانہ کارروائيوں ميں ہلاکتوں سے 50في صد زيادہ ہيں .

اخبار کے مطابق ايسا ہونا نہيں چاہيے تھا.يہ جنگيں امريکي فوجيوں کے لئے خودکشي کا باعث بنيں.2012کے پہلے155دنوں ميں امريکي فوجيوں کي خودکشي کے154واقعات ہوئے. خودکشيوں کے انکشافات اس لئے زيادہ پريشان کن ہيں کہ ان ميں حاضرسروس فوجي ہيں.اخبار لکھتا ہے کہ پينٹاگون کو خودکشي کے گھمبير مسئلے پر توجہ دينے کي ضرورت ہے اور اسے روکنے کے تمام اقدامات کيے جائيں.

امريکي تاريخ کي جنگوں ميں اس سے پہلے فوجي خودکشيوں کے اتنے زيادہ واقعات سامنے نہيں آئے. گزشتہ سال اسي عرصے کے دوران خودکشيوں ميں اٹھارہ في صداضافہ ديکھنے ميں آيا.تاہم ان ميں سابق فوجيوں کي خودکشي کے واقعات کو شامل نہيں کيا گيا، يہ صرف حاضرسروس فوجيوں کي ہلاکت ہے. 2008اور 2009ميں اسي عرصے ميں خودکشياں جنگي کارروائيوں کے دوران ہلاکتوں سے زيادہ رہي........ /169